کہیں نہ کہیں شدید دکھ سا دل میں بیٹھ رہا تھا اس صحن کو پھر کبھی نہیں دیکھ سکیں گے، اس کچن میں کوکنگ نہیں کر سکیں گے ،اور سب سے شدید دکھ یہ کہ ایک کارنر جس میں نماز پڑھتی تھی اس کارنر کو میں ہمیشہ مس کروں گی!!!!
پھر اچانک ایک خیال آیا کہ کوءی بات نہیں درودیوار بدلیں گے گھر والے تو ہم ایک ساتھ رہیں گے.......... کچھ حوصلہ بلند ہوگیا
پھر جب قدرت کے قانون پر غور کیا تو سمجھ آئی کے
ہمارا جو جسم ہے مٹی کا ایک گھر ہے جسے ہماری روح کو مقررہ وقت پر خالی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے یعنی ہماری موت س پہلے موہلت تو شاید دی جاتی ہے اسی لئے گھبراہٹ ور بیچینی گھیرنے رکھتی ہے لیکن حقیقی گھر ہمارا قبر ہی ہے اور حقیقی فیصلہ الله کا ہی ہوتا ہے الله پاک سب پر اپنا رحم اور کرم رکھے امین ثمّ آمین