Misconception
🌿🌿وہم🌿🌿
میرے پیارے عزیز دوستو!! کیسے ہیں آپ سب دعا گو ہوں اور رہوں گی کہ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو(آمین ثمہ آمین)
آج دل چاہا کہ کیوں نہ اس نے مگر فرسودہ موضوع پر بات کی جاے جس کا عنوان ہے "وہم" ،آپ اس تصویر کو ملاحضہ فرمایے اب ہم سب اس طرح کیوں نہیں رہتے ،،ہمارا رہن سہن اس تصویر جیسا کیوں نہہں??
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہم آج سے بیس یا تیس سال پہلے بلکل ایسے ہی رہتے تھے اب یہ بدلاو کیوں
نہ ہم میں احساس رہا، اپناپن کی جگہ خود کو خود تک محدود رکھنے کی سوچ نے لے لی
کیوں کہ ہمیں یہ وہم ہونے لگ گیا کہ ہم تو طاقت و قوت رکھتےہیں کسی کی مدد نہ کرنے کی
کوءی بیمار ہو تو ہم عیادت کے لیے نہیں جاتے کیوں کہ ہمیں یہ وہم ہوتا ہے کہ ہم سے کوءی مالی امداد کا تقاضا نہ کر دے
دوست کی شادی ہو تو مجرے کے نام پر بھاری رقم ہوا میں اڑا دیتے ہیں تاکہ ہمارانام اونچا ہو اور محلے کی غریب بیٹی کی شادی پر ایک کاغذ کے لفافے میں 1000 روپے کا نوٹ ڈال کر گھر کی بڑی بوڑھی عورت کے ہاتھ بھجوا کر کہلوایا جاتا ہے کہ بیٹی اللہ تمہارا نصیب اچھا کرے
اور اس شادی میں اس وہم سے شرکت نہ کرنے کی وجہ کہ ہم سے مالی امداد کا تقاضا نہ کر دیا جاے.
ایک ہی چھت تلے پلنے والے دو بھای شادی کے بعد ایک دوسرے سے ہر چیز چھپاتے ہیں یہاں تک کہ مہینہ کی آمدنی بھی یہ وہم کہ بھاءی اپنی ضرورت کا تقاضا نہ کر دے مبعض اوقات ہمیں
یہ وہم بھی ہوتا ہے کے "نظر"نہ لگ جاءے اس وہم نے تو جیسے نفسیاتی مریض پیدا کر دیے
- بچہ پیدا ہو تو منہ چھپاو نظر لگ جاءے گی
- زچہ سے کہا جاے گا کم بات کرو نظر لگ جاے گی
- دیورانی جیٹھانی میں سے کوی ایک بھاری گھرانے سے تعلق رکھے اور زیور پر کوءی ایک فوقیت لے جاے تو کم زیور پہنو نظر لگ ج جاءے گی
- نءی نویلی دلہن حاملہ ہو جاے تو خود کو ڈھانپو نظر لگ جاے گی
- کسی کے گھر دعوت کھای اور گھر آتے طبعیت خراب ہوی تو لو بھی نظر لگ گی
- لڑکی کے منہ پر دانےآگے تو یہ وہم نظر لگ گی
جسے ہم اپنی ناقص عقل کو استعمال کرنے کے بجاے اکیلے ہوتے چلے جا رہے ہیں
اللہ پر توکل رکھیں وقت ایک جیسا نہیں رہتا دوسروں کی مدد
دل کھول کر کریں اللہ آپ کے لیے آسمان سے ذمین تک خود آے گا
دعآ گو
مہوش

No comments:
Post a Comment